اسے اچھی طرح سے معلوم تھا کہ شیخ نو مسلم تھے اور بنیوں کےخواص ابھی ان میں باقی تھے۔ لینا ہوتا تو ہاتھ آگے بڑھاتے۔ دینا ہوتا تو ہاتھ پیچھے کر لیتے۔
شیخوں کی اس خصلت پر کسی زندہ دل شیخ نے ایک لطیفہ گھڑ رکھا تھا کہ ایک شیخ کسی گڑھے میں گر گیا' بہت کوشش کی' لیکن باہر نکل نہ سکا۔
اتنے میں ایک آدمی ادھر سے گزرا۔ شیخ نے با آواز بلند شور مچایا کہ مجھے اس گڑھے سے نکالو۔ راہ گیر نےاپنا ہاتھ بڑھایا بولا شیح جی مجھے اپنا ہاتھ دیں۔ لیکن شیخ چپ چاپ کھڑا رہا۔
راہ گیر نے کئی ایک بار کہا۔۔ شیخ جی اپنا ہاتھ دیں' لیکن شیخ نے ہاتھ نہ دیا۔ راہ گیر حیران تھا کہ گڑھے سے نکلنا تو چاہتے ہیں لیکن ہاتھ نہیں دیتے۔ اتنے میں ایک بوڑھا شیخ آ گیا۔ راہ گیر نے کہا میں کب سے کہہ رہا ہوں کہ دیجئے اپنا ہاتھ۔ لیکن یہ ہاتھا بڑھاتے ہی نہیں۔ اس پر بوڑھا ہنسے لگا۔ بولا بر خودار شیخ دے گا نہیں۔ تم کہو شیخ لیجئے میرا ہاتھ۔ تو وہ جھٹ اپنا ہاتھ بڑھا دے گا۔
ممتاز مفتی'الکھ نگری صفحہ: 39
0 comments:
Post a Comment